پاکستان میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی اعلاء کلمۃ الحق کے سلسلے میں ایک درخشان تاریخ ہے-(اعلامیہ مجلس نظارت)

پاکستان میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی اعلاء کلمۃ الحق کے سلسلے میں ایک درخشان تاریخ ہے-(اعلامیہ مجلس نظارت)

بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ألّلهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَعَجِّلْ فَرَجَهُم

پاکستان میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی اعلاء کلمۃ الحق کے سلسلے میں ایک درخشان تاریخ ہے۔ اس الٰہی تنظیم نے اپنے آقا و مولا امام العصر حضرت حجت ابن الحسن ارواحنا لہ الفداہ اور آج کے دور میں انکے نائب برحق رہبر مسلمین سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ تعالی کی تاسی کرتے ہوئے ہمیشہ اعتدال اور جامعیت کو مد نظر رکھا ہے اورعالمی اسلامی نہضت، پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سالمیت اور تشیع کے حقوق کی جدوجہد میں سینہ سپررہی ہے۔ حکمت عملی کے مرحلے میں ہم نے اس الٰہی تنظیم کو علوی بصیرت پر عمل پیرا پایا اور وحدت بین المسلمین اور مومنین کے ذریعے اور فروعی اختلافات اور حواشی سے گریز کرکے اسلام دشمن قوتوں کو مایوس کرنے پر عمل پیرا ہوئے۔ لیکن اس کیساتھ مکتب امامت کا پرچار اور امت مسلمہ اور شیعہ معاشرے میں انحرافی نظریات کی بیخ کنی میں کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ۔ بصیرت مومن کی سپر ہے جس کے ذریعے وہ دشمن کے مکر وفریب کا شکار ہونے اور اس کے اہداف کی تکمیل کا ایندھن بننے سے بچا رہتا ہے اور اپنے الٰہی اہداف اور مصالح کی تشخیص دیتا اور انہیں آگے بڑھاتا ہے۔ آج ہمیں انتہائی ا فسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ لاہور کے ایک مدرسے کے معزز پرنسپل نے مسلسل ملت تشیع ، ملی تنظیموں اور شخصیات کی تحقیر کو اپنا شعار بنا لیا ہے اور ہر گزرتے ہوئے وقت کیساتھ وہ اس گام آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے اس عمل سے ملت میں نفرت اور افتراق کے تاریک سائے گہرے ہوتے جارہے ہیں۔

1)
ہم تمام ملی شخصیات اداروں اور تنظیموں کا احترام کرتے ہیں اور انکے بظاہر مختلف کاموں کو ملت کے کثیر جہتی اہداف کی تکمیل کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اسلامی نہضت کو نظریاتی ،ثقافتی، تعلیمی ، خدماتی وسیاسی جہتوں کی حامل حقیقت سمجھتے ہیں۔ ملک و ملت کی فلاح کی ان جہتوں کو متعارض قرار دینا اور ان سے وابستہ گروہوں کی تنقیص کرنا ایک غیر دانشمندانہ اور مضر عمل سمجھتے ہیں ۔

2)
تشیع اسلام ناب محمدی ہے اس کی تضعیف کا عمل اپنی ہر صورت میں نامناسب اور افسوسناک ہے اس میں عقائدی اور فکری انحراف پیدا کرنے والے جاہلوں اور آلہ کاروں سے کسی طور غفلت نہ برتی جاسکتی ہے نہ الحمدا للہ ملت کے کسی نظریاتی گروہ نے برتی ہے لیکن اس عظیم مکتب میں اس بنا پر افتراق پیدا کرنا اور ملت کو ذاکر ، عالم ، ملنگ خطیب کی صنفوں میں بانٹنا اور استہزاء اور تحقیر پہ مبنی بیانات دینا ملت کو کمزور کرناہے۔

3)
رہبریت اور مرجعیت کی تضعیف اپنی تمام شکلوں میں مذموم ہے اور ملک وملت کے لیے نقصان کا باعث ہے لہٰذا تمام بزرگان ،اکابرین اور تنظیمات سے گزارش کی جاتی ہے اپنے فقہی اور سیاسی امور میں موقف کو مرجعیت و رہبریت کے تابع رکھیں۔ مراجع کے مسلمہ فتاوا اور رہبریت کے عالمی سیاسی بیانیوں کے مقابل بعض بزرگان کا قیام نظام کی تضعیف کا باعث بنا ہے۔

4)
ہم کسی بھی انقلابی شخصیت یا تنظیم کے محض اپنی روش کو حق سمجھنے اور اس سے اختلاف رکھنے والوں کو غیر نظریاتی یا غیر انقلابی قرار دینے اور ان کی تحقیر کرنے کی روش پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔

5)
نظام رہبری اور مرجعیت و اجتہاد پر اپنے غیر متزلزل ایمان و اعتماد کے ساتھ وابستگی اور ملت تشیع پاکستان اور ملک خداداد کی خدمت کی لازوال تاریخ کیساتھ آئی ایس او پاکستان اپنے الٰہی راستہ پر گامزن ہیں لہٰذا بعض شخصیات کی طرف سے بالخصوص آئی ایس او پاکستان اور بالعموم تمام اجتماعی جدوجہد میں مصروف عمل تنظیموں پر عمومی تنقید اور محاذ آرائی کی فضا پیدا کرنے کے رویے سے خبردار کرتے ہیں کہ یہ ملت کے مفاد میں ہرگز نہیں ہے۔
آخر میں عرض ہے کہ ہم امت مسلمہ اور بالخصوص مومنین میں اختلافات کو ہوا دینا حرام سمجھتے ہیں اور تمام گروہوں اور شخصیات کو دعوت دیتے ہیں کہ قومی اور ملی تنظیموں کو کمزور کرنے کے بجائے ان کے ساتھ مل کر پاکستان میں شیعہ قوم کو مضبوط بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں اور ایک دوسرے کی تضعیف کے بجائے طاقت بنیں مشترکہ مسائل جن میں شیعہ حقوق ، تحفظ عزاداری، شیعہ مِسنگ پرسنز ، وحدت بین المومنین اور وحدت بین المسلمین اور اسی طرح اپنے مادر وطن کے تحفظ،ترقی اور اسے عالمی استعمار کی محکومی سے نکالنے کے لیے درست سمت میں ڈائیرکشن دینے میں ہم آہنگی سے آگے بڑھیں جو ہماری شرعی اور قومی ذمہ داری ہے۔

وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى
والسلام

اعلامیہ مجلس نظارت
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے