طلبا یونینز کی بحالی سےبہترین طلبا قیادت سامنے آئے گی،ترجمان

طلبا یونینز کی بحالی سےبہترین طلبا قیادت سامنے آئے گی،ترجمان

آئی ایس او پاکستان نے طلبا یونیز پہ پابندی کے دن کو یوم سیاہ کے طور پہ منایا
لاہور ( ) طلبہ یونینز پر پابندی کو 35 سال مکمل ہونے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے یوم سیاہ منایا ۔آئی ایس او پاکستان کی میڈیا ٹیم نے سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ ری سٹور سٹوڈنٹس یونینز کے استعمال سے پابندی کے خلاف احتجاج کیا ۔آئی ایس او پاکستان کے ترجمان جلال حیدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 9فروری طلباءبرادری کے لئے سیاہ دن ہے اس روز ایک آمر مطلق نے طلبہ کے یونینز پہ پابندی لگا ئی جس کے باعث پاکستان میں نوجوان قیادت کا فقدان پیدا ہوا۔جلا ل حیدر کا کہنا تھا کہ طلبہ یونین پر پابندی کو تین دہائیاں گزر جانے کے بعد آج کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلبہ کی اکثریت طلبہ یونینز کے نام ہی سے ناواقف ہیں۔پچھلے ایک لمبے عرصے سے فیسوں میں اضافے، انتظامیہ کے جبر، ہاسٹل و ٹرانسپورٹ اور دیگر مسائل نے طلبہ کے شعور پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ مختلف مسائل کے حوالے سے آئے روز کسی نہ کسی کالج یونیورسٹی کے طلبہ کے احتجاج وغیرہ بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔اگر طلبہ یونینز کو بحال کیا جائے گا تو طلبہ اپنے مسائل سے آگاہی کے ساتھ ساتھ حل کے لئے بھی کوشاں ہوں گے۔
۔ انہوں نے مزید کہا طلبا ہی وہ قوت ہیں جنہوں نے ملک بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، طلبا یونین کی بحالی بہترین طلبا قیادت سامنے آئے گی اور ملک و قوم کی ترقی کا سبب بنے گی آئی ایس او پاکستان کا پہلے دن سے یہی موقف تھا کہ طلبہ یونین کا بحال ہونا انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا انہوں نے کہا کہ طلبہ یونین پر پابندی سے طلبہ تعلیمی اداروں کے آئین کے تحت حاصل ہونیوالے بنیادی حقوق و اختیار سے محروم ہیں، جس کے سبب طلبہ کو بنیادی مسائل حل کرنے کیلئے نااہل انتظامیہ کے دفتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا آئی ایس او پاکستان جلد ہی اس حوالے سے تمام طلباءتنظیموں کا اجلاس بھی منعقد کرے گی۔

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے