سانحہ شکارپور کے ورثاءکو انصافی کی فراہمی تک سراپا احتجاج رہیں گے،آئی ایس او پاکستان

سانحہ شکارپور کے ورثاءکو انصافی کی فراہمی تک سراپا احتجاج رہیں گے،آئی ایس او پاکستان

جبری گمشدگی کو جرم قرار دینا خوش آئند ہے ،مرکزی صدر قاسم شمسی

چار سال قبل شکار پور امامبارگاہ میں بم دھماکہ سے 65 مومنین شہید ہوئے تھے۔شہداءکی یاد آوری کے لئے چوتھی برسی کا انعقاد کیا گیا جس سے برادر قاسم شمسی مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان نے خطاب کیا خطا ب میں اُن کا کہنا تھا کہ سانحہ شکارپور پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب ملک دشمن عناصر نے معصوم اور بے گناہ جانوں کو موت کے گھاٹ اتار کر اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کی۔

سانحہ شکارپور کے دیگر سہولت کاروں کو سال گزرنے کے باوجود ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیاپہلے بھی سندھ حکومت کی غفلت کے باعث سندھ اور کراچی میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے واقعہ میں ملوث دو دہشت گردوں کو تو پھانسی دی گئی لیکن ورثاء سے کئے گئے باقی وعدوں کی تکمیل نہ کی گئی ۔لمحہ فکریہ ہے کہ گزشتہ ہفتے وزیر اعلیٰ سندھ نے کہاٹارگٹ کلنگ کنٹرول نہیں ہورہی ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ کا یہ بیان ان کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے اگر وہ سندھ کی عوام کو جان کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتے تو انہیں حکمرانی کا کوئی حق نہیں۔

برادر سید قاسم شمسی کا کہنا تھا کہ ہمارے نوجوانوں کو جبری طور پہ اغواءکیا گیا اور ہمیں ہی قتل کیا جارہا ہے پاکستان میں جبری گمشدگی کو جرم قرار دیا جارہا ہے لیکن پہلے سے گم شدہ جوانوں اور علماءکرام کو تاحال رہا نہیں کیا گیا جبری گمشدگی کو جرم قرار دینا خوش ٓئند ہے اور قانون کی بالادستی ہے جبری طور پہ اغوا کا سلسلہ بند ہونا چاہئے اگر سانحہ شکار پور کے ورثاء کو انصاف اور اسیران کو رہا نہ کیا گیا تو ملک کے کوش و کنار میں احتجاج کیا جائے گا مرکزی صدر کے ہمراہ ترجمان آئی ایس او پاکستان برادر جلال حیدر بھی تھے۔

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے