آئی ایس او پاکستان سال رواں کو خود سازی اور استحکام تنظیم کے عنوان سے منانے کا اعلان کر دیا

آئی ایس او پاکستان سال رواں کو خود سازی اور استحکام تنظیم کے عنوان سے منانے کا اعلان کر دیا

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر انصر مہدی نے تنظیم کے مرکزی دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس او رواں سال کو سال خود سازی اور استحکام تنظیم کے نام سے منائے گی ۔انہوںنے کہا جیسا کہ آئی ایس او پاکستان کا نصب العین ہے کہ تعلیمات قرآن اور سیر ت محمد و آل محمد ۖکے مطابق نوجوان نسل کی زندگیوں کو استوار کرنا ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ نوجوان خودسازی کے عمل سے ضرور گزریں جیسا کہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے کہ اصلاح کی ابتدا اپنی ذات سے کرنی چاہئے،یعنی ہمیں خود اپنے اور پہلے توجہ دینا چاہئے۔ خودسازی کا پہلا اور اہم ترین قدم یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو، اپنے اخلاق کو اور اپنے کردار کو تنقیدی نگاہ سے دیکھے۔
مرکزی صدر نے کہا کہ ملک کے حکمران پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست کی بجائے لبرل اسٹیٹ بنانے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں کہ جو نظریہ پاکستان کے برعکس ہے ۔خودشناس،شجاعت ور بصیرت جیسی خصوصیا ت کے حامل آئی ایس او کے کارکنان ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے محافظ ہیں جو ملک کے اندرونی و بیرونی دشمنوںسے نبردآزما ہیں۔ انصر مہدی کا کہنا تھا کہ اگر ہم دور حاضر کا جائزہ لیں تو سامراجی طاقتیں دنیا والوں پر زیادتی اور ظلم کر رہی ہیں او ر اس پر بہت سی اقوام اپنی خاموشی سے اپنے ہاتھوں اپنی ذلت و رسوائی کے اسباب فراہم کررہیں معاشرے میں ستم و جارحیت، جھوٹ اور فریب ہے، تو یہ سب انسان کے پاکیزہ نہ ہونے اور اس بات کا نتیجہ ہے کہ انسانوں نے اپنا تزکیہ اور خوسازی نہیں کی۔ اس لئے آئی ایس او پاکستان نے اس سا ل کو سال خود سازی قرار کے عنوان سے منانے کا فیصلہ کیا ہے۔مرکزی صدر نے کہا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ خودسازی کے بعد ہی ایک صالح نوجوان تنظیم اورمعاشرے کیلئے اپنا کلیدی کردار کرسکتا ہے۔آئی ایس او پاکستان ہمیشہ سے ہی ملت تشیع پاکستان کے لئے مثالی اور تاریخی کردار رکھتے ہیںخودسازی کے عمل کے بعد یہی نوجوان ملت کی مضبوطی کیلئے نمایاں کردار ادا کریںگے۔خودسازی کے عمل کو مضبوط بنانے کیلئے سال بھر تربیتی ورکشاپس،سیمنار اور کانفرنسز کا اہتمام کیا جائے گا ۔

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے