جامعات میں بڑھتی ہوئی شدت پسندانہ سوچ ملک کے لئے زہر قاتل ہے:آئی ایس او پاکستان

جامعات میں بڑھتی ہوئی شدت پسندانہ سوچ ملک کے لئے زہر قاتل ہے:آئی ایس او پاکستان

 تعلیمی درسگاہوں میں پر تحمل اور برداشت کو فروغ دینا ناگزیر ہوچکا ،علی کاظمی مرکزی نائب صدر آئی ایس او پاکستان
انتہا پسندی کے خاتمہ کیلئے طلبہ کے مابین مکالمے کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا :مرکزی نائب صدر
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستا ن کے مرکزی نائب صدر سید علی کاظمی نے لاہور میں یونیورسٹیز کے طلبہ کے وفد سے گفتگو میں کہا کہ کراچی میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کے دہشت گردگروہ کے انکشاف پر پوری قوم کو تشویش لاحق ہے ۔علی کاظمی نے کہا جامعات میں بڑھتی ہوئی شدت پسندانہ سوچ پاکستان کے لئے زہر قاتل ہے ،پاکستان میں شدت پسندی کے جڑ پکڑنے کی وجہ اہلِ علم اور دانشوروں کی طرف سے بوجوہ اس کو فکری اور نظریاتی سطح پر بطور ایک علمی اور فکری چیلنج کے قبول نہ کرنا قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتہاپسندی اور دہشت گردی خواہ کسی بھی طرح کی ہو وہ ملک اور معاشرے کے لیے تباہ کن ہوتی ہے ۔ اعلی تعلیمی اداروں کے طلبا و طالبات کا دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرے کا باشعور طبقہ بھی انتہا پسندی، تخریب کاری اور شدت پسندی کی جانب مائل ہورہا ہے جامعات و تعلیمی درسگاہوں میں ہر سطح پر تحمل اور برداشت کو فروغ دینے کے لئے نصاب میں اخلاقی اور معاشرتی اقدار کو حصہ بنا کر طلبا و طالبات کے مابین مکالمے اور مباحثے کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا معاشرے کے ہر باشعور شہری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے ملک اور وطن کے لئے یہ فریضہ انجام دے اور اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے