آئی ایس او ،شجرہ طیبہ :تحریر وفا عباس نقوی

آئی ایس او ،شجرہ طیبہ :تحریر وفا عباس نقوی

تحریر: سید وفا عباس

پاکستان کی سرزمین پر ایک طرف سوشلزم کے مکروہ نظریات نوجوانوں پر حملہ آور تھے تو دوسری جانب کمیونزم کی یلغار تھی۔ تمام پارٹیاں انہی نظریات کی حامل تھی اور اس وقت کی بڑی شخصیات اور لیڈرز بھی انہی مذکورہ مکروہ نظریات کے حامل تھے۔ جن میں ذوالفقار علی بھٹو، فیض احمد فیض جیسی شخصیات شامل تھی۔ ایک طرف اسلامی جمعیت طلبہ (جماعت اسلامی) اپنے نظریات کے پرچار میں مصروف تھی تو دوسری طرف نیشنل اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کام کر رہی تھی، جو کہ سوشلسٹ نظریات کے قائل تھے۔ یہ نظریات اسلام کے اصولوں کے منافی تھے اور یونیورسٹی کی سطح پہ نوجوانوں کو گمراہ کر رہے تھے۔ ایسے میں چند شیعہ جوانوں نے جن میں ناصر نقوی، ڈاکٹر شہید نقوی اور دیگر ساتھیوں نے اس چیز کو درک کیا کہ ایک تو ہمارے نوجوان ان تنظیموں کا حصہ بن کر نہ صرف اسلام سے دور ہو رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اپنی توانائیاں غلط جگہ پہ استعمال کر رہے ہیں۔

لہذا ان دوستوں نے طے کیا کہ ہم اپنے نوجوانوں کی فکری، روحانی، تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک شیعہ طلباء جماعت بنائیں گے کہ جو تشیع کے نوجوانوں کی علمی اور فکری تربیت کیا کرے گی۔ اسی سلسلہ میں لاہور کے تعلیمی اداروں کے جوانوں کا نمائندہ اجلاس بلایا گیا، جس میں اس شجرہ طیبہ آئی ایس او کی بنیاد 1972ء میں رکھی۔ جو کچھ عرصہ لاہور میں فعالیت کرتی رہی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تمام شہروں کے طلبا کی آواز بن گئی۔ یہ قافلہ لاہور سے شروع ہوا اور کچھ ہی عرصہ میں گلگت بلتستان اور کوئٹہ تک شیعہ جوان اس کا حصہ بنتے رہے۔ اس قافلہ حق نے اپنے قیام سے لے کر اب تک پاکستان کی سرزمین پر بہت سے نمایاں الٰہی کار شروع کئے اور آج بھی اپنے ان کاموں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ سارے کارہائے نمایاں تو شائد میں نہ لکھ سکوں، لیکن چند کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔

سب سے اہم یہ کہ پاکستان کی سرزمین پر شیعہ نوجوانوں کو پہچان دی۔ ان کو خدا سے مربوط کرنے کے ذرائع فراہم کئے۔ جن میں نوجوانوں کے لئے فکری، تربیتی و دینی ورکشاپس، شب بیداریوں کا سلسلہ، دعائے کمیل کی محافل کا انعقاد، علماء کا تعارف، علماء کی طرف جوانوں کی رغبت وغیرہ شامل ہیں۔ انقلاب اسلامی ایران کے بعد اس الٰہی کاروان نے خود کو اس عالمی نہضت سے مربوط کر لیا اور انقلاب کا تعارف پاکستان میں لوگوں کو کروایا۔ حقیقی معنوں میں ولی فقیہ امام راحل امام خمینی کے پیغام کو نہ صرف سمجھا، بلکہ پورے پاکستان میں خمینی بت شکن کا تعارف کروانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ جس کی ایک مثال یہ ہے کہ مرحوم علامہ صفدر نجفی کی سرپرستی میں ڈاکٹر شہید اور انہی آئی ایس او کے جوانوں نے امام خمینی کی توضیح کو پاکستان کے گوش و کنار میں پہنچایا اور ملت کو تقلید جیسے دینی فرض سے روشناس کروایا۔

ایک اور بات ضرور کرنا چاہوں گا کہ جب امام راحل نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس کے طور پر منانے کا اعلان کیا تو فوراً پاکستان کے ان پاکیزہ نوجوانوں نے امام خمینی کے حکم پر اسرائیل سے اظہار برات کے لئے ریلیوں کا انعقاد کیا اور آج تک اس کو مناتے آ رہے ہیں۔ اگر عالمی استکبار کو للکارنے کی بات کی جائے، اس کے ظلم کو بے نقاب کرنے کی کی جائے تو اس میدان میں بھی ان نوجوانوں نے اپنے بابصیرت قائد علامہ عارف حسین الحسینی کے حکم پر یوم مردہ باد امریکہ کا انعقاد کیا اور اپنے امام کی اس نصیحت کہ ہر ظالم کے مخالف اور ہر مظلوم کے حامی رہو، پہ آج بھی عمل کر رہے ہیں۔ ذکر اگر طلباء تنظِم کا ہو تو تعلیم پر بات نہ کروں یہ مناسب نہ ہوگا۔ لٰہذا میں تعلیمی کامیابیوں کی بات کرنا بھی ضروری سمجھوں گا۔ اپنے قیام سے لے کر آج تک آئی ایس او نے ہزاروں جوانوں کو تعلیمی وظائف دیئے۔

طلبہ کے تعلیمی کیریر کے لئے راہنمائی کیلئے کیریئر کونسلنگ پروگرامات منعقد کئے، یونیورسٹی کی سطح پہ مختلف شعبوں کے طلباء کو نہ صرف راہنمائی فراہم کی، بلکہ ہائیر ایجوکیشن کے لئے بھی طلباء کو مکمل طور پہ راہنمائی کرتی رہی اور اگر صرف گذشتہ دو سالوں کی بات کی جائے تو سینکڑوں طلبا کو ہائیر ایجوکیشن کے لئے اچھی یونیورسٹیز میں داخلے میں مدد کی۔ تعلیمی کارنامے یہاں پر ختم نہیں ہوتے، بلکہ علاقوں کے اندر فری ٹیوشن سینٹرز کا قیام کیا گیا، جو آج بھی اپنی خدمات پاکستان کے کونے کونے میں سرانجام دے رہے ہیں۔ غرضیکہ پری بورڈ ایگزیمز سے لے کر یونیورسٹیوں میں داخلے تک اور پھر ہائیر ایجوکیشن کے لئے مدد کی فراہمی تک آئی ایس او طلباء کو راہنمائی فراہم کرتی رہی۔ آج بھی یہ الٰہی کاروان کہ جس کے لِئے رہبر معظم فرماتے ہیں کہ آئی ایس او کے نوجوان میری آنکھوں کا نور ہیں، اپنے رہبر کے زیر سایہ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کی زمینہ سازی کے لئے اپنی مکمل توانائیاں استعمال کرتے ہوئے سرگرم عمل ہے۔

یہ شجرہ طیبہ ایک الٰہی امانت ہے، جو بے سروسامانی کے عالم میں ملت جعفریہ پاکستان کی نوجوان نسل کو گمراہ ہونے سے بچا رہا ہے، لفظ امانت ایک دوسرے لفظ، امان سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے حفاظت کرنا، سکیور کرنا، تحفظ دینا ہے، اسی لئے تو سفیر انقلاب شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی نے فرمایا تھا کہ عزیز دوستوں یہ تنظیم آپ کے پاس امانت ہے۔ شہید کے اس فرمان کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ہے کہ کوئی ہو جو آج اس شجرہ طیبہ کو امان دے، اس کی حفاظت کرے، کیونکہ شہید جانتے تھے کہ اس الٰہی نہضت آئی ایس او پاکستان کو امان کی ضرورت پڑے گی، اس کو کمزور کرنے کے لئے اس کے مقابلے پر جماعتیں بنائی جائیں گی۔ اس الٰہی کارواں سے لوگوں کو دور کرنے کے لئے مختلف قسم کے شاید انقلابی نعرے بھی لگائیں جائیں گے، شہید نقوی جانتے تھے، اس لئے فرما کر گئے کہ عزیز دوستوں، یہ الٰہی تنظیم آپ کے پاس امانت ہے، یعنی اس میں کسی کو خیانت مت کرنے دینا، اسے ہدف سے دور مت ہٹنے دینا، اسے کسی کے ہاتھوں استعمال مت ہونے دینا۔ خدا سے دعا ہے کہ خدا اس کاروان کو ترقی عطا کرے۔ اس کے مخلصین کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ آمین

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے