آئی ایس او پاکستان کی سالانہ تعلیمی کانفرنس کا آغاز جمعہ سے لاہو رمیں ہوگا

آئی ایس او پاکستان کی سالانہ تعلیمی کانفرنس کا آغاز جمعہ سے لاہو رمیں ہوگا

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹری تعلیم یاور عباس نے لاہور میں سالانہ تعلیمی کانفرنس بعنوان ایجوکیشن اینڈ لیڈر شپ کی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ سے آئی ایس او کے سالانہ تعلیمی کانفرنس کا آغاز ہوگا جو 3 روز تک جاری رہے گا۔یاور عباس نے شرکا ء اجلاس کو تعلیمی کانفرنس کی تیاریوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر کی تمام جامعات سے طلبہ کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے رابطہ مہم و تشہیراتی مہم کا سلسلہ مکمل ہو چکا ہے۔۔مرکزی سیکرٹری تعلیم نے بتایا کہ کانفرنس سے ماہرین تعلیم خطاب کریں گے۔ جس میںجا ب ہنٹنگ اسکلز،سیلف ریکگنائزیشن،کرنٹ افیئرز  جیسے موضوعات شامل ہیں کانفرنس کے انعقاد سے پروفیشنل اداروں میں زیر تعلیم طلبا میں تعلیمی میدان میں مفید ثابت ہوگی تین روزہ کانفرنس کے اختتام پر پوزیشن ہولڈرز میں انعامات تقسیم کئے جائیں گے سی ایس ایس اور پی سی ایس امتحانات کی خصوصی رہنمائی بھی دی جائے گی جس کیلئے ماہرین تعلیم مفصل لیکچرز دیں گے ۔یاور عباس  نے کہا کہ سالانہ تعلیمی کانفرنس سے اس بات کا تعین بھی کیا جائے گا کہ تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کی عصری تقاضوں کے مطابق تربیت میں کس قدر کامیابی ملی ہے، تعلیمی اداروں میں اسلامی اقدار سے دوری، معیاری نظام تعلیم اور پاکستان کی ترقی و سالمیت کیلئے زہر قاتل ہے کسی بھی معاشرے میں نوجوانوں کی قابل لحاظ تعداد لیاقت اور قائدانہ صلاحیتوں کی حامل ہو تو وہ مہذب معاشرہ کی تشکیل میں اہم کردار اداکرتا ہے۔ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد طلبہ وطالبات میں تعلیمی وتحقیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور ان میں تحصیل علم کے جذبے کو فروغ دینا ہے ۔کانفرنس نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتیں پید اکرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
مرکزی سیکرٹری تعلیم نے بتایا کہ آئی ایس او 43 برسوں سے طلبا کی رہنمائی کر رہی ہے، طلبہ یونین کی پابندی کے بعد سے طلبہ اپنے جمہوری حق سے محروم تھے اور ایسے میں طلبہ کو بے پناہ مسائل کا بھی سامنا تھا تو آئی ایس او نے ہی طلبہ مسائل کے حل کیلئے ناصرف آواز اٹھائی بلکہ طلبہ کیلئے تعلیم دوست سرگرمیوں کا انعقاد کیا جن میں کتب میلے، سٹڈی سرکلز، نئے طلبہ کے اعزاز میں استقبالیہ، سکالر شپ اور سال تعلیم کا انعقاد شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ملک کو نظریاتی طور پر مضبوط کرنے کیلئے نوجوانوں کی نظریاتی تربیت کی ضرورت ہے۔

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے