آئی ایس او پاکستان کا دوسرامرکز ی اجلاس عاملہ اختتام پذیر

آئی ایس او پاکستان کا دوسرامرکز ی اجلاس عاملہ اختتام پذیر

کراچی (پ-ر) آئی ایس او پاکستان کی مجلس عاملہ کا تین روزہ دوسرا اجلاس کراچی میں منعقد ہواجس میںگزشتہ سہہ ماہی رپورٹ پیش کی گئی جبکہ آئندہ آنے والے سہہ ماہی پروگرام کی منظوری دی گئی ۔ اجلاس میں ملک بھر سے 22ڈویژن کے صدور اور جنرل سیکرٹریز کے ساتھ ساتھ مرکزی رکنِ نظارت مولانا عقیل موسیٰ ، مولانا احمد اقبال ،علی رضا بھٹی، مولانا غلام عباس رئیسی، مولانا حیدر علی جوادی نے خصوصی شرکت کی ۔اس موقع پر رکن نظارت مولانا احمد اقبال رضوی نے کہا کہ ہم اللہ تعالی کے شکرگزار ہیں جس نے ہماری ملت کو آئی ایس او جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی۔ آئی ایس او طلبا تنظیموں سے فرق رکھتی ہے، آئی ایس او ایک شجرہ طیبہ ہے جس کی بنیاد پاکیزہ لوگوں نے رکھی جن کی راہ کربلا تھی اور وہ لوگ دین کی جامعیت رکھنے والے تھے، وہ افراد جو دین کے اجتماعی اور آفاقی پیغام کو سمجھتے تھے۔مولانا عقیل موسیٰ نے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دین اور سیاست اکھٹے ہیں، دین میں اتنی طاقت موجود ہے کہ معاشرے کو تمام مسائل سے نکال سکے۔ دنیا کی طاقتوں کو سیاسی اسلام سے خطرہ ہے۔آج عالمی استعمار پوری دنیا میں رسوا ہو چکا ہے اور اس کے مظالم پوری دنیا میں عیاں ہو چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اپنی رسوائی کے غم میں ہی استعمارر اپنی موت خود مرتا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان تعلیمی میدان میں ترقی کریں کیونکہ پاکستان میں آئی ایس او پاکستان کا کردار ہمیشہ مثالی رہا ہے اور قوم کو آئی ایس او پاکستان سے بہت سے امیدیں وابستہ ہیں۔ مرکزی صدر سرفراز نقوی نے اجلاس کی آخری نشست میں اراکین عاملہ سے اختتامی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس او پاکستان کے نوجوان ہی قوم و ملت کی امید ہیںجوایک نئے جذبہ و تجدید کے ساتھ امسال ملت کی مضبوطی کیلئے معرفت و بصیرت کے ساتھ اپنا کلیدی کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ کستان کی پارلیمنٹ ،حکومت اور تعلیمی اداروں میں تکفیر ی عناصرکی مداخلت پرمحب وطن پاکستانیوں پر تشویش ہے۔جب تک انتہا پسندانہ سوچ کا خاتمہ نہیں کیا جاتاپاکستان میں امن ممکن نہیں ہے۔ 

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے