نماز سماجی اور ذاتی دردوں کی دوا ہے

نماز سماجی اور ذاتی دردوں کی دوا ہے

 نماز کے موضوع پر ہونے والے اجلاس کے لئے پیغام میں امام خامنہ ای کا کہنا ہے کہ نماز ملت کے وحدت کے لئے ایک دروازے کی حیثیت رکھتی ہے اور نماز کے ذریعے سے ہی انسان ہدایت پا کر اللہ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔

امامیہ میڈیا مانیٹرنگ سیل کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی نے نماز کے پچیسویں اجلاس کو بھیجے گئے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ نماز ملت کے ہر فرد کےلئے ایک کھلے دروازے کی مانند ہے، اس دروازے سے ہر کوئی ہدایت پا کر اللہ کی رحمتوں تک رسائی حاصل کرسکتا ہے، انسان نماز کے ذریعہ اپنی زندگی کو سیدھے راستے پر گامزن کرکے خیر و برکت سے سرشار کرسکتا ہے۔

ہرفرد کی روحانی سالمیت نماز سے وابستہ ہے، ہر معاشرے کی حیات طیبہ اور سیدھی راہ ”صراط مستقیم” صرف نماز کے قائم کرنے سے محقق ہوجاتی ہے۔ (نماز کے قیام سے معاشرہ سیدھی راہ کی طرف گامزن ہوتا ہے)۔

قرآن وسنت میں نماز کے بارے میں حد سے زیادہ تاکید بھی اسی وجہ سے کی گئی ہے تاکہ یہ رحمت کا دروازہ معاشرے کے ہر فرد کے لئے کھلا رہے اور ہرکسی کو اس سے فائدہ اٹھانے کی فرصت ملے۔

کئی سالوں سے اسلامی جمہوری ایران میں اس نعرے کو اپنایا گیا ہے ” { الَّذینَ إِنْ مَکَّنَّاهُمْ فِی الْأَرْضِ أَقامُوا الصَّلاةَ وَ آتَوُا الزَّکاةَ وَ أَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَ لِلَّهِ عاقِبَةُ الْأُمُورِ } “

ترجمہ: “یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے زمین میں اختیار دیا تو انہوں نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی اور نیکیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے روکا اور یہ طے ہے کہ جملہ امور کا انجام خدا کے اختیار میں ہے۔”

 

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے