تعلیمی نصاب میں ملکی نظریاتی اساس کے خلاف اقدامات کو برداشت نہیں کیا جائے گا:آئی ایس او پاکستان

تعلیمی نصاب میں ملکی نظریاتی اساس کے خلاف اقدامات کو برداشت نہیں کیا جائے گا:آئی ایس او پاکستان

پاکستان کے نظام تعلیم کی حقیقی اساس مذہب پر ہی قائم ہو سکتی ہے:مرکزی صدر
تعلیمی نصاب میں ملکی نظریاتی اساس کے خلاف اقدامات کو برداشت نہیں کیا جائے گا:آئی ایس او پاکستان
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی دفتر میں تنظیم کے مرکزی صدر کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں مرکزی کابینہ کے تمام عہدیدران نے شرکت کی ۔اجلاس میں مرکزی جنرل سیکرٹری انصر مہدی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات اکبر حسین، سیکرٹری نشرو اشاعت قاسم شمسی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری نثارکاظمی، امامیہ چیف اسکاوٹ تصور کربلائی مرکزی سیکرٹری تعلیم یاور عباس، انچارج محبین نسیم کربلائی، انچارج پروفیشنل ادارہ جات نیر حسین اور سیکرٹری مالیات میثم جعفری بھی موجود تھے۔رات گئے تک جاری رہنے والے اجلاس میں سابقہ کارکردگی کا جائزہ اور آئندہ کے لائحہ عمل کو زیر بحث لایا گیا ۔امریکی کمیشن یو ایس سی آئی آر ایف کی جانب سے پاکستان کے تعلیمی نصاب میں اسلامیات کے مضامین میں تبدیلی لاکر اقلیتی راہنمائوں کو شامل کرنے اور اسلامی شخصیات کے کارناموں کے مضامین ختم کرنے اور سکولوں کی کتب میں صرف اسلام ہی سچا مذہب ہے جیسے مضامین کو ختم کرکے تمام مذاہب کی تعلیمات دینے کے مطالبہ کو یکسر مسترد کر تے ہوئے مرکزی صدر سرفراز نقوی نے کہاکہ استعمار اور لادین قوتیں تعلیمی نصاب کو اپنا ہدف بنائے ہوئے ہیں جس سے نوجوان نسل کو دین سے دور کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں پاکستان کی اکثریت اپنی تہذیب و ثقافت اور اسلام سے گہری وابستگی رکھتی ہے اس لئے نظام تعلیم کو سماجی ثقافتی، مذہبی حوالے سے مضبوط بنیاد پر استوار ہونا چاہئے، پاکستان کے نظام تعلیم کی حقیقی اساس مذہب پر ہی قائم ہو سکتی ہے، آئی ایس او نے ہمیشہ طلبا کے حقوق کیلئے عملی اقدامات اٹھائے ہیں، پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ آئی ایس او تعلیمی نصاب میں ملکی نظریاتی اساس کے خلاف اقدامات کو برداشت نہیں کرے گی۔

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے