گلگت میں مذہبی پرگرامات پر پابندی ختم نہ کی گئی تو احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائیگا:مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان

گلگت میں مذہبی پرگرامات پر پابندی ختم نہ کی گئی تو احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائیگا:مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان

گلگت میں مذہبی پرگرامات پر پابندی ختم نہ کی گئی تو احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائیگا:مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزشن پاکستان کے مرکزی صدر نے گلگت بلتستان میں مذہبی پروگرامات پرپابندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواسہ رسول حضرت امام حسین کے ذکر پر پابندی ناقابل برداشت فعل ہے سرفراز نقوی نے امامیہ نیوز کو ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گلگت کی صوبائی حکومت کی جانب سے مذہبی آزادی کو جبر کے ذریعے چھیننے کی ناکام کوششیں کی جارہی ہیں۔ تعلیمی اداروں میںمذہبی پروگرامات پرپابندی آئین پاکستان کی سراسر خلاف ورز ی ہے امام حسین کی ذات صرف اسلامی مکاتب فکر کے لئے ہی قابل احترام نہیں بلکہ ادیان عالم کے لئے قابل احترام ہیں، مگر گلگت بلتستان کی حکومت امام حسین کو ایک فرقے کا پیشوا بنا کر پیش کر رہی ہے، جو کہ اسکی متعصابہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔مرکزی صدر نے کہا ہے کہا کہ آئی ایس او پاکستان جی بی کے عوام کیساتھ کھڑی ہے اگر مذہبی پروگرامات پر پابندی نہ ہٹائی گئی تو ئی ایس او کی جانب سے پاکستان پورے ملک میں صوبائی حکومت کے اس اقدام پر احتجاج تحریک کا آغا زکیا جائے گا ۔

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے