مکہ مکرمہ پر میزائل حملے کی حقیقیت

مکہ مکرمہ پر میزائل حملے کی حقیقیت

  یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی سربراہی والے اتحاد کی جانب سے جاری ہونے والی خبر میں کہا گیا کہ انصار اللہ نے جمعرات کی رات 9 بجے صوبہ صعدہ سے مکہ مکرمہ کی جانب میزائل فائر کیا۔ سعودی حکام نے دعوی کیا کہ انصار اللہ کے میزائل کو مکہ مکرمہ سے 65 کیلومیٹر کے فاصل پر ہی اتحادی فوج نے پتا لگا کر تباہ کر دیا۔

مقامات نظامی در عربستان سعودی مدعی شده‌اند نیروهای انصارالله؛ مکه مکرمه، مقدس‌ترین شهر مسلمانان را با موشک هدف قرار داده‌اند۔ اس دعوے  کے بعد خلیج فارس تعاون کونسل کے چھ ارکان نے منظم اقدامات کرتے ہوئے یمن کی جانب سے مکہ مکرمہ پر میزائل حملے کی مذمت کی اور اس کو بحران یمن کے سیاسی حل میں صنعا کی دلچسپی کا نہ ہونا قرار دیا۔

مکہ مکرمہ پر میزائل حملے کے دعوے پر یمنیوں کا رد عمل :

ان دعوؤں کے باوجود، یمنی ذرائع نے مکہ مکرمہ کو میزائل سے نشانہ بنانے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے میزائل سے جدہ کے ملک عبد العزیز ائیرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا اور یہ میزائل اپنے ہدف پر جا لگا۔  اسی درمیان یمن کی خبر رساں ایجنسی سبا نے ایک یمنی فوجی ذریعے کے حوالے سے نقل کیا کہ برکان –  نامی بیلیسٹک میزائل سے جدہ میں شاہ عبد العزیز ائیرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ میزائل اپنے ہدف پر لگا اور ائیرپورٹ کو شدید نقصان ہوا۔

المیادین ٹی وی چینل نے بھی یمنی فوج کے حوالے سے رپورٹ دی کہ بیلیسٹک میزائل نے جدہ کے عبد العزیز ائیرپورٹ پر تباہی مچا دی۔ اس خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ یمن پر سعودی عرب کی جارحیتوں کے جواب میں یہ میزائل حملہ ہوا جس میں شاہ عبد العزیز ائیرپورٹ پر کافی جانی و مالی نقصان پہنچا۔

مکہ مکرمہ پر میزائل حملے کا دعوی کیوں پیش کیا گیا ؟

یمنیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ پر میزائل حملے کا دعوی سعودی عرب کی جانب سے ایسی حالت میں پیش کیا گیا کہ اس واقعے سے صرف ایک دن پہلے یمن میں جنگ بندی کے لئے اقوام متحدہ کے منصوبے کا متحدہ عرب امارات نے استقبال کیا تھا۔  اقوام متحدہ کا منصوبے میں اقوام متحدہ کے زیر نظر مذاکرات شروع کرنے اور یمن پر سعودی عرب کے حملے کو روکنا شامل تھا جس کا پہلی بار امارات کے حکام نے استقبال کیا۔ اسی وقت امارات کی جانب سے یمن کے خلاف جنگ روکنے کے استقبال کی خبر نے بہت سے لوگوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ یمن پر سعودی جارحیت میں متحدہ عرب امارات سعودی عرب کا اہم اتحادی سمجھا جاتا ہے۔

دوسری طرف سعودی عرب کی جانب سے انصار اللہ پر مکہ مکرمہ پر میزائل حملے کا دعوی ایسی حالت میں پیش کیا گیا کہ بہت سے علاقائی ممالک کے علاوہ دنیا بھر سے سعودی عرب پر صنعا کی مجلس عزاء پر حملے کی وجہ سے شدید دباو تھا اور سعودی عرب نے اسی دباؤ کو کم کرنے کے لئے تحریک انصار اللہ پر یہ الزامات عائد کر دیئے تاکہ رای عامہ کو گمراہ کیا جا سکے۔

مکہ پر انصار اللہ کا حملہ، فشار کی حالت میں نفسیاتی جنگ :

ایسی حالت میں کہ جب سعودی عرب پر یمن میں جنگ ختم کرنے کے لئے شدید داخلی اور خارجی دباؤ بڑھ  رہا ہے، ریاض کی جانب سے مکہ مکرمہ پر میزائل حملے کا شوشہ چھوڑا گیا۔  سعودی عرب نے اس پروپیگینڈے سے اپنے اوپر پڑنے والے شدید دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے