وطن کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کیلئے جوان ہمہ وقت آمادہ ہیں:انٹرویو،مرکزی صدر

وطن کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کیلئے جوان ہمہ وقت آمادہ ہیں:انٹرویو،مرکزی صدر

بطور مرکزی صدر آئی ایس او رواں تنظیمی سال سے متعلق کیا اہداف متعین کئے ہیں۔؟
 ایک تو بنیادی طور پر ہماری کوشش رہی ہے کہ اب ہم طویل المدتی منصوبہ بندی کی جانب قدم بڑھائیں، ہماری کوشش یہی ہے کہ طویل المدتی اہداف مقرر کرکے ان کے حصول کیلئے بھرپور کوشش و کام کریں، تنظیم کی ترقی میں جو رکاوٹیں حائل ہیں، انہیں دور کرنے کی باقاعدہ پلاننگ کیساتھ پالیسی مرتب کرکے بھرپور انداز میں کام کریں۔ ہماری یہ بھی کوشش ہے کہ رواں تنظیمی سال میں ان چیزوں کی بنیاد رکھی جائے، تاکہ آنے والے وقت میں دوستوں کو زیادہ مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے، کیونکہ بہرحال یہ ایک دقت اور وقت طلب کام ہے۔ لہذا رواں سال اس کی بنیاد رکھی جائے گی، تاکہ آئندہ اسے مکمل کرنے کی جانب توانائیاں خرچ ہوں۔ اس کے علاوہ یونیورسٹیز ہماری بنیادی ترجیح ہیں، جہاں ہم بھرپور انداز میں تنظیم کو فعال کرکے کام کریں گے۔

گذشتہ چند برسوں میں تنظیم کی کارکردگی کس میدان میں تسلی بخش نہیں رہی، نیز اس کمی کو پورا کرنے سے متعلق آپ کیا حکمت عملی ترتیب دینے جا رہے ہیں۔؟
سید سرفراز نقوی: شائد ہم فقط اس مخصوص کمزور پہلو کی تشخص نہ کر پائیں، مگر کلی طور پر بات کی جاسکتی ہے کہ جن امور کی جانب ہم گذشتہ چند سالوں سے متوجہ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، ان امور پر کام کرنے کی رفتار میں کمی رہی ہے۔ عصر حاضر سے ہم آہنگ جو بنیادی تبدیلیاں لانی چاہیئے تھیں، گذشتہ سالوں میں دوستوں نے اس کیلئے بہت کوشش بھی کی۔ جس کی وجہ سے ماحول سازی ہوئی، ان کوششوں سے اب ایسا ماحول بن چکا ہے کہ میرے خیال میں ان پر کام کرنے میں زیادہ حرج نہیں ہوگا۔

طلباء میں عصر حاضر سے ہم آہنگ تعلیمی استعداد بڑھانے کیلئے آئی ایس او نے کتنا کام کیا ہے۔؟
سید سرفراز نقوی: ہماری پہلے بھی کوشش رہی ہے کہ نوجوانوں میں تعلیمی حوالے سے زیادہ سے زیادہ کام کیا جائے۔ میٹرک میں جو بچے ہوتے ہیں ان کی کیرئیر گائیڈنس اور کونسلنگ کے حوالے سے کام کرتے ہیں۔ البتہ اس حوالے سے کام کا دائرہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ آج کا نوجوان جو کہ معاشرے میں مختلف طاقتوں کے زیر اثر ہے اور ان سے نبرد آزما ہے، یہی نوجوان احساس کمتری کا بھی شکار ہے۔ وہ اپنی قوت و طاقت سے بھی آگاہ نہیں ہے۔ نوجوانوں کو گائیڈ کرنے کی ضرورت ہے کہ ان میں موجود صلاحیتوں کو کیسے بروئے کار لایا جاسکتا ہے کہ ان کی توانائیاں پاکستان کی ترقی اور دین اسلام کی سربلندی میں صرف ہوں۔ آئی ایس او نے دونوں جہتوں پر کام کیا۔ اب ہماری کوشش ہے کہ ایسے سیمینارز کا انعقاد کریں، جس میں نوجوانوں کو تحقیق، کامیابی اور علم دوستی کی جانب راغب کرسکیں، کیونکہ ہمارے ہاں طالب علموں کو تحقیق کی جانب نہیں لایا جاتا، ہماری کوشش ہے کہ ایسے پروگرام ترتیب دیں، جس میں بچوں کی تعلیمی استعداد بڑھانے کیلئے گائیڈلائن بھی دی جائے اور علم دوستی کا بھی پیغام بھی دیا جائے۔ نوجوانوں میں تحقیق اور کتب بینی کا شوق معاشرے اور قوموں کی کامیابی کا ضامن ہے

حالیہ بھارتی گیدڑ بھبکیوں کیخلاف آئی ایس او نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔ کیا وجہ ہے۔؟
سید سرفراز نقوی: جب سے آئی ایس او کا قیام عمل میں آیا، اس وقت اس تنظیم کے نصب العین میں لکھا گیا تھا کہ یہ تنظیم پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنائے گی۔ چنانچہ جب بھی کسی ملک یا قوت کی جانب سے یہ کوشش کی گئی کہ وہ وطن عزیز کی نظریاتی یا جغرافیائی سرحدوں کی حرمت کو پامال کرے تو آئی ایس او کے جوان اس قوت کے خلاف، اس ملک کے خلاف ہمہ وقت تیار و آمادہ ملیں گے

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے