آئی ایس او کا مرکزی کنونشن نسل نو میں نوید سحر کا پیغام ہوگا، احسن نقوی

آئی ایس او کا مرکزی کنونشن نسل نو میں نوید سحر کا پیغام ہوگا، احسن نقوی

سید احسن نقوی آئی ایس او پاکستان کے مرکزی سینیئر نائب صدر اور چیئرمین کنونشن ہیں، حالیہ نوید سحر کنونشن کے حوالے سے بھرپور تیاریوں میں مصروف ہیں، علما سے رابطے، سینیئرز کو دعوتیں دینا، کنونشن کے انعقاد کے حوالے سے انتظامات، شرکا کی رہائش کے مسائل سمیت دیگر امور کی تیاری میں بہت زیادہ مصروف ہونے کے باوجود “امامیہ نیوز” کی درخواست پر انہوں نے خصوصی وقت نکالا اور کنونشن کے حوالے سے مختصر گفتگو کی، جو قارئین کیلئے پیش کی جا رہی ہے۔ (ادارہ)

امامیہ نیوز: اپنی ابتدائی تنظیمی زندگی کے حوالے سے کچھ بتائیں، کن کن عہدوں پر کام کیا۔؟
احسن نقوی: یونٹ میں محب انچارج رہا، اس کے بعد یونٹ صدر کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ یونٹ صدر کے بعد ڈسٹرکٹ آرگنائزر بنا دیا گیا، اس کے بعد اسسٹنٹ چیف اسکاٹ اور سابق مرکزی صدر آئی ایس او اظہر عمران طاہر کیساتھ مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری رہا، موجودہ کابینہ میں سینیئر نائب صدر کی ذمہ داری ہے، اب کنونشن کے موقع پر چیئرمین کنونشن کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے، جس کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں اور ان شا اللہ اس ذمہ داری سے بھی کامیابی کیساتھ عہدہ برا ہوں گے اور ایک کامیاب کنونشن کا انعقاد ہماری ترجیح ہے، جس کیلئے کوشاں ہیں، دوستوں کا بھی بھرپور ساتھ ہے اور ایک ٹیم کے طور پر سب دوست اپنے اپنے مقام پر بڑھ چڑھ کر کام کر رہے ہیں۔

امامیہ نیوز: آئی ایس او کا 45واں کنونشن ہے، نام “نوید سحر” رکھا گیا ہے، اسکی کوئی خاص وجہ ہے، کیونکہ آئی ایس او ہمیشہ جس نام سے کنونشن منعقد کرتی ہے، اس نام کو کاز کے طور پر بھی لیتی ہے۔؟
احسن نقوی: نوید سحر کنونشن نام رکھنے کی وجہ دنیا کے موجودہ حالات ہیں، پاکستان کی صورتحال اور عالمی صورتحال اسلامی بیداری کی طرف جا رہی ہے، دنیا میں اسلام کا آفاقی پیغام تیزی سے پھیل رہا ہے، حتی مغرب میں بھی اسلام کی روشنی پھیل رہی ہے اور مغربی ممالک کے لوگ اسلام کی طرف راغب ہو رہے ہیں، دنیا میں جہاں بے راہ روی اور جہالت کو فروغ دیا گیا، وہاں لوگوں میں شعور بھی بیدار ہوا اور اسلامی قوتوں نے جب اسلام کا حقیقی چہرہ پیش کیا تو دنیا اس طرف مائل ہوئی۔ دوسری جانب اسلام دشمنوں نے اسلام کو بدنام کرنے کیلئے داعش اور القاعدہ جیسی دہشتگرد اور اسلام دشمن جماعتوں کو اسلامی جماعتوں کے طور پر پیش کرکے اسلام کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اس لئے ایک نئی سحر کے طلوع ہونے کے آثار واضح دکھائی دے رہے ہیں اور آئی ایس او نے بھی اپنے کنونشن کا نام “نوید سحر” اسی تناظر میں رکھا ہے کہ ہمارا یہ کنونشن بھی نسل نو کیلئے نوید سحر ہوگا، آئی ایس او پاکستان چونکہ نوجوانوں میں اسلامی بیداری کیلئے کام کر رہی ہے، اس لئے ہمارا مقصد و مدعا بھی اسلام کے آفاقی پیغام کا فروغ ہے، آئی ایس او نوجونواں کو دین کی طرف راغب کرتی ہے اور استعماری سازشوں سے آگاہ رکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوان استعمار شناس ہیں اور وہ اس کے پھیلائے ہوئے جال میں نہیں آتے بلکہ ان کا تمسک علما اور روشنی کے مراکز کیساتھ ہے۔ امام زمان کا ظہور بھی چونکہ قریب ہے اور ہم انقلاب امام کیلئے کام کر رہے ہیں تو ہمارا یہ کارواں، امام زماں کے لشکر کیساتھ جا ملے گا۔

امامیہ نیوز: کنونشن بالکل قریب آچکا ہے، اب تک کیا تیاریاں کی گئی ہیں۔؟
احسن نقوی: کنونشن کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں، تمام مقررین اور رہنماں کو دعوتیں دی جا چکی ہیں، تمام یونٹس سے شرکت کے حوالے سے بھی روابط مکمل ہوچکے ہیں، انتظامی حوالے سے بھی میٹنگز ہوچکی ہیں، ایک آدھ دن میں کارکنوں کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہو جائے گا۔ امامیہ اسکاٹس پہنچ رہے ہیں، اس کے علاوہ سینیئرز کیساتھ بھی رابطے میں ہیں، اس سال ان شا اللہ سینیئرز کی بھی کثیر تعداد کنونشن میں شریک ہوگی۔ آئی ایس او نے اپنے سینیئرز کو تنظیم کیساتھ وابستہ رکھنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے ہیں اور ان شا اللہ ہم اپنے سینیئرز کی رہنمائی میں تنظیم کو آنے والی نسل کے حوالے کریں گے۔ کسی بھی تنظیم کے سابقین اس تنظیم کا سرمایہ ہوتے ہیں، ماضی میں اس سرمائے پر توجہ نہیں دی گئی، لیکن اس بار مرکزی صدر صاحب نے خصوصی طور پر سابقین کیلئے کام کیا ہے، یہ ایک اچھا فیصلہ تھا اور بہت سے پرانے دوست اب رابطے میں آئے ہیں اور وہ بھی تنظیم کیساتھ دوبارہ مربوط ہونے پر اظہار مسرت کر رہے ہیں۔ کنونشن میں “داستان دوستاں” کے عنوان سے ان کیلئے ایک نشست رکھی گئی ہے۔

امامیہ نیوز: اس بار کنونشن میں کن موضوعات کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے اور کیا پروگرامز تشکیل دیئے گئے ہیں۔؟
احسن نقوی: کنونشن کا اہم پروگرام “کانفرنس” ہوتا ہے، جس میں ہفتے کو سیمینار ہوگا، نوجوان امید ملت، اس میں 3 موضوعات ہوں گے، جن میں پہلا عنوان “اسلامی تحریکوں میں نوجوانوں کا کردار” دوسرا موضوع ہوگا “نوجوان از نظر امام خمینی اور رہبر معظم” جبکہ تیسرا عنوان ہوگا “پاکستان میں نوجوانوں کا کردار” اس کے علاوہ نوید سحر کانفرنس ہوگی، جس میں مہدویت کے عنوان پر نشست ہوگی، اسلامی بیداری کے عنوان سے بھی ایک نشست ہوگی۔ جس سے مقررین، علما کرام اور دانشور حضرات اظہار خیال کریں گے۔

امامیہ نیوز کنونشن کیلئے کن کن اہم شخصیات کو دعوت دی گئی ہے۔؟
احسن نقوی: ملک بھر سے اہم شخصیات اور علما کو دعوت دی گئی ہے، علامہ غلام عباس رئیسی صاحب، ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس، علامہ امین شہیدی صاحب، علامہ احمد اقبال رضوی صاحب، علامہ حسنین گردیزی صاحب، علامہ شبیر بخاری صاحب، ناصر عباس شیرازی صاحب سمیت ملک بھر سے اہم شخصیات شرکت کریں گی اور اپنے خیالات عالیہ سے شرکا کو مستفید کریں گی۔ آئی ایس او کے سابق مرکزی صدور بھی خصوصی طور پر شریک ہوں گے۔ اس حوالے سے آئی ایس او کا یہ خاصہ رہا ہے کہ ہمیشہ ہم نے جید علما کو دعوت دی ہے، جنہوں نے نوجوانوں کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا ہے، اس سال بھی ہم نے اہم علما کو دعوت دی ہے جو کنونشن میں شریک ہوں گے، البتہ ہم علامہ سید آغا علی الموسوی کی کمی ضرور محسوس کریں گے، کیونکہ وہ آئی ایس او کے بانی علما میں سے تھے اور ان کی نوجوانوں کیلئے خصوصی شفقت ہر کارکن کا سرمایہ ہے، وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

امامیہ نیوز: پاکستان بالعموم اور ملت تشیع بالخصوص دہشتگردی کا شکار ہے، اس کنونشن میں اس حوالے سے کوئی نشست رکھی گئی ہے۔؟
احسن نقوی: اس حوالے سے کانفرنس میں اس موضوع پر مقررین اور علما سیر حاصل گفتگو کریں گے، اس حوالے سے بنتا بھی ہے کہ نوجوانوں کو آگاہی دی جائے اور انہیں بتایا جائے کہ ان کا کیا کردار بنتا ہے، نوجوانوں کے ہاتھ میں قوم کی تقدیر ہوتی ہے، علما دہشتگردی کیخلاف راہ حل بھی بتائیں گے، اس حوالے سے نوجوانوں کو باقاعدہ آگاہی دی جائے گی، ہمارے نوجوان الحمد للہ باشعور ہیں، تو ایسے حالات میں نوجوانوں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، جس کا تنظیم نے خصوصی خیال رکھتے ہوئے کانفرنس میں اس عنوان کو بھی شامل کیا ہے، تاکہ ہم اپنے کارکنوں کو راہ حل دے سکیں، جس کے مطابق وہ معاشرے میں اپنا کردار ادا کریں اور دہشتگردوں کیخلاف عوامی شعور بیدار کریں، بدقسمتی سے دہشتگردوں کیخلاف اس انداز میں حکومتی سطح پر کام نہیں کیا گیا، جس کی ضرورت تھی۔ لیکن عوام بیدار ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ یہ مٹھی بھر دہشتگرد کن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور ان کی ڈوریاں کہاں سے ہلائی جا رہی ہیں۔

امامیہ نیوز: آئی ایس او ہر سال کنونشن کے آخری روز ریلی کا بھی اہتمام کرتی ہے، اس سال ریلی کس عنوان سے نکالی جائیگی۔؟
احسن نقوی: جی بالکل، ریلی ہمارے کنونشن کا اہم حصہ ہے اور اس سال ہم نے “استحکام پاکستان ریلی” نکالنے کا فیصلہ کیا ہے، ریلی کا مقصد پاکستان کے دشمنوں سے اظہار برات کرنا ہے، جو بھی پاکستان کیخلاف جس انداز میں بھی سازشیں کر رہے ہیں، آئی ایس او ان سے اظہار نفرت کرتی ہے اور اس کنونشن کی ریلی میں پاکستان کے استحکام کے حوالے سے مقررین خطاب کریں گے۔ آئی ایس او پاکستان کے نومنتخب مرکزی صدر بھی ریلی سے خطاب کریں گے، جس میں وہ اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ اس ریلی میں آئی ایس او کے کارکن بھرپور شرکت کریں گے اور وطن عزیز کی حرمت کیلئے مرمٹنے کا عزم کریں گے، وطن عزیز کی جغرافیائی اور فکری سرحدوں کا تحفظ ہمارا منشور ہے اور ہم وطن کی جانب اٹھنے والی ہر میلی آنکھ پھوڑنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔

امامیہ نیوز: آئی ایس او کے کارکنوں کو “امامیہ نیوز” کے توسط سے کنونشن کے حوالے سے کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
احسن نقوی: کارکنوں سے یہی کہوں گا کہ کنونشن میں بھرپور شرکت کریں اور وہ عہد جو شہدا کیساتھ ہمارے بزرگوں نے کیا، اس کی تجدید کیلئے ضرور کنونشن میں آئیں۔ شہدا نے جو پودا لگایا تھا آئی ایس او کی شکل میں، اس کی آبیاری کیلئے وہ اپنا اپنا کردار ادا کریں۔ اس حوالے سے ہر کارکن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے نئے میر کاررواں کے انتخاب کے اس عمل میں شریک ہو اور کنونشن کی دیگر تقریبات سے مستفید ہو، ایسے پروگرامز فکری بالیدگی کیلئے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، اس میں شرکت ضرور کرنی چاہیے، اس کے علاوہ کنونشن ایک ایسا ایونٹ ہے جس میں پرانے دوستوں سے بھی ملاقات ہوجاتی ہے، اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اس کو مِس نہیں کرنا چاہیے اور جو کسی مجبوری کے تحت شامل نہیں ہوسکتا، وہ شامل ہونیوالوں سے ضرور معلومات حاصل کرلے، تاکہ وہ تنظیم کی پالیسی سے آگاہ ہوسکے

Share this post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے