ہمدرد ہال لاہور میں ہونے والے سیرت النبی ۖ و وحدت اسلامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آقائے علی رضا پناہیان نے وحدت کی اہمیت پہ روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صرف وہ افراد وحدت کا دعویٰ کرنے کے اہل ہیں جو خود پسندی، خود خواہی، نسل پرستی، ذات پرستی، قوم پرستی اور فرقہ پرستی کے دائرے سے نکل کر دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ نیز انہوں نے اپنی گفتگو میں اسلامی ثقافت کی اہمیت کو واضح کیا اورکہا کہ مسلمان اپنی ثقافت میں بہت غنی ہیں، پاکستان، ایران کی ثقافت بہت غنی ہے اور ہم مغرب سے بہت آگے ہیں، مغربی معاشرہ میں رشتوں کی وحدت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ان کا خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ گیا ہے۔ نوجوانوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آقا پناہیان نے کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم و ملت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں ، ایران میں انقلا ب لانے والے بھی نوجوان تھے اور اس کا استحکام بھی نوجوانوں کا مرہون منت ہے۔مغرب اسلامی معاشروں کے نوجوانوں میں فحاشی ، عریانی، شہوت پرستی ، شراب اور موسیقی کو فروغ دے کر انہیں سیاسی میدان سے دور رکھنا چاہتا ہے۔ ایک مسلمان نوجوان کی سیاسی ہونا چاہیے۔شہادت قرب خدا کا رستہ ہے۔ پاکستانی معاشرے کو بصیرت کی ضرورت ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پہ حاصل کیا گیا تھا۔ اس کو سیاسی، معاشی،ثقافت حوالے سے بھی مستحکم ہونا چاہیے۔